ادارے لاہور میں سیوریج لائن حادثہ 6 گھنٹے تک مشکوک قرار دیتے رہے۔خاتون کی نعش برآمد ہونے پر 3 افسران معطل- بچی کی تلاش جاری

January 28, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

لاہور میں داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے بعد خاتون کی نعش برآمد کر لی گئی ، بچی کی تلاش جاری ہے، ادھر صوبائی وزیر اطلاعات نے واقعہ جھوٹ قرار دے دیا، تاہم حکومت نے 3 افسران کو بھی معطل کر دیا ہے اور تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

صوبائی حکومت ،پولیس اور پنجاب ریسکیو سروس 6 گھنٹے تک واقعہ مشکوک قرار دیتے رہے۔ جب خاتون کی لاش ملی اور فوٹیج  سے بھی حادثے کی تصدیق ہوئی تو پھر حادثے کو درست مانا گیا۔

خاتون اور 10ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا تھا -ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں 2 افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں ۔

واقعے کے حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کا ایک آڈیو کلپ بھی سامنے آیا ہے جس میں انہیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ خاتون کے شوہر جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور انہوں نے خود ہی اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے۔تاہم ریسکیو ترجمان نے مزید کہا کہ انہوں نے اس واقعے کی خود بھی تحقیقات کی ہیں اور ان کی ’متاثرہ خاتون‘ کے والد سے بات ہوئی ہے۔

ریسکیو ترجمان کا کہنا تھاکہ سب بات چیت کرنے کے بعد انہیں اس واقعے پر شک ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کال فیک ہے لیکن میں بھی مشکوک ہوں۔ ریسکیو 1122 ایک فیصد چانس پر بھی ساری رات آپریشن کرے گی

خاتون کے سیوریج لائن میں گرنے کے جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے تھی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔
واقعے پر لاہور انتظامیہ کا موقف تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

دوسری جانب لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا تھا- لیکن گرفتار شدگان کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل گئی۔
ڈی جی آپریشن فیصل کامران نے کہا ہے کہ واقعے کی انکوائری فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمت واقعہ رپورٹ ہوا اور 1122 کو کال آئی، اس کال کو دیکھ کر تمام تر  تحقیقات کی گئیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاتون کی لاش ملنے کے بعد تمام ادارے اس وقت بچی کو ڈھونڈنے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، جس نے اس معاملے میں غفلت برتی  اس کی انکوائری کیلئے کمیٹی بنا دی گئی ہے، کچھ افسران کو نا اہلی کے باعث معطل کر دیا ہے، آؤٹ فال روڈ سے خاتون کی نعش ملی۔
فیصل کامران نے مزید بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا کہ یہ لوگ داتا دربار سے سلام کرکے نکلے تھے کہ حادثہ پیش آگیا، سیف سٹی نے تمام چیزیں نکال لی ہیں۔دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا۔انہوں نے بھاٹی گیٹ، پرندہ مارکیٹ کے قریب 24 سالہ سعدیہ ساجد نامی خاتون اور10 ماہ  کی بیٹی ردافاطمہ کے مین ہول میں گرنے سے متعلق اطلاع کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہاکہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی فوری طور پر متحرک ہوئیں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی خبر درست نہیں تھی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ کی ساس نے بتایا کہ میری بہو پیر پھسلنے سے سیوریج لائن میں گری اور اس نے ہاتھوں میں بچی بھی اٹھائی ہوئی تھی۔

دیگر ذرائع کے مطابق ،متاثرہ فیملی سیر کرنے آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی ، اس دوران خاتون اور بچی  سیوریج لائن کی منڈیر  پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلی ٰ پنجاب مریم نواز ا نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے۔ کمیٹی 24 گھنٹے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ  کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کردیا گیا۔ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹرشبیر احمد کو بھی معطل کردیا گیا۔

ریسکیو نے شام ساڑھے 7 بجے واقعے کی کال موصول کی تھی۔