2برفانی تیندوں کی گوجال میں نقل و حرکت کیمرے پرمحفوظ
دو برفانی تیندوے رات کے وقت گوجال کے گاؤں خیبرمیں گھومتے رہے،یہ نادرلمحات کیمرے میں قید ہوگئے جو جنگلی حیات اور پہاڑی برادریوں کے درمیان نازک بقائے باہمی کی گہری جھلک پیش کرتا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ،علاقے میں، مقامی کمیونٹی کی درخواست پر اے آئی کیمرہ ٹریپس کو عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا تاکہ جاری واٹر چینل کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کے کام کو آسان بنایا جا سکے۔واقعے کے بعد، جی بی پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور SKIDO کی مدد سے کیمروں کو دوبارہ انسٹال کیا گیا اور برفانی چیتے کی موجودگی کی تصدیق کی، جس سے ہمیں نقل و حرکت کے انداز اور خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
حکام کا کہناہے کہ برفانی چیتے کا تعلق انہی زمینوں سے ہے۔ ہماری ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ ان کی موجودگی میں آگاہی، وارننگ سسٹم، انشورنس میکانزم، اور ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ طریقے سے رہ سکیں۔
A rare and powerful sight — two snow leopards returning to a kill in the mountains of Gilgit-Baltistan.
Behind this image is a difficult reality. A recent snow leopard attack claimed livestock, affecting a family’s livelihood — a reminder of the real costs of living alongside… pic.twitter.com/WIqJkbI2oS
— WWF-Pakistan (@WWFPak) January 31, 2026
خیبر گاؤں کو وسیع پیمانے پر ایک ماڈل کنزرونسی کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں نہ صرف برفانی چیتے بلکہ ہمالیائی آئی بیکس بھی انسانی بستیوں کے اندر اور اس کے آس پاس نظر آتے ہیں۔ نایاب جانوروں کے بار بار دیکھے جانے کے واقعات چار دہائیوں سے زیادہ مدت پر محیط کمیونٹی کی زیرقیادت تحفظ کی کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے مقامی باشندوں میں رواداری کو فروغ دیتے ہوئے جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد کی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے برفانی تیندووں نے اس سے قبل خیبر گاؤں میں ایک مقامی کسان کے 11 مویشیوں کو ہلاک کیا تھا۔ واقعہ چندروزقبل پیش آیا جب چرواہے اپنے مویشی مویشی خانے میں بند کرکے سو رہے تھے۔متاثرہ چرواہے کے مطابق برفانی چیتا رات کی تاریکی میں مویشی خانے میں داخل ہوا اور قیمتی مویشیوں کو نشانہ بنایا۔مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی آبادیوں کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرے، جن میں متاثرین کے لیے معاوضہ، حفاظتی باڑ لگانا اور آگاہی مہمات شامل ہوں۔دوسری جانب محکمہ جنگلی حیات کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور متاثرہ خاندان کو ممکنہ امداد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام جاری ہے۔
یہ واقعہ جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی رہائش گاہوں کے قریب رہنے والی پہاڑی برادریوں کے ذریعہ معاش کے درمیان پیچیدہ اور نازک توازن کو واضح کرتا ہے۔