بنگلہ دیشی سیاست کا تاریخی موڑ

February 10, 2026 · کالم

ڈاکٹر ظفر اقبال

  1. تمہید اور موجودہ سیاسی پس منظر

بنگلہ دیش اس وقت ایک ایسے جیو پولیٹیکل اور داخلی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں روایتی موروثی سیاست کے ستون تیزی سے بکھر رہے ہیں۔ ملک کی 60 فیصد نوجوان آبادی محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ ایک ایسی فیصلہ کن قوت بن کر ابھری ہے جو دہائیوں پر محیط “جمود” (Status Quo) کو چیلنج کر رہی ہے۔ 12 فروری کے انتخابات سے محض تین دن قبل، سیاسی فضا یہ واضح کر رہی ہے کہ بنگلہ دیش کا مستقبل اب خاندان پرستی کے بجائے “استحقاقیت” (Meritocracy) اور قابلیت سے جڑا ہے۔ یہ رپورٹ اس بنیادی تبدیلی کا احاطہ کرتی ہے جس کا مقصد موروثیت کا خاتمہ اور ایک ایسے نظام کا قیام ہے جہاں حکمرانی کا حق صرف اہل اور باصلاحیت قیادت کو حاصل ہو۔

  1. نوجوان ووٹرز (Gen Z) کا سیاسی مزاج اور ترجیحات

بنگلہ دیشی نوجوان نسل (Gen Z) اب محض جذباتی نعروں یا سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر رہی، بلکہ ان کا رویہ “افادی اور سٹریٹجک” (Utilitarian and Strategic) ہو چکا ہے۔ یہ نسل شناخت کی سیاست کے بجائے نتائج اور گورننس کو ترجیح دے رہی ہے، جو کہ ماضی کے روایتی ووٹنگ پیٹرن سے ایک بڑا انحراف ہے۔

  • مطالبات:
    • نظام کی بنیادی تبدیلی (Systemic Reform) اور عدلیہ و پولیس کو سیاسی اثر سے پاک کرنا۔
    • ڈیجیٹل آزادیوں کا تحفظ اور سرکاری ملازمتوں میں شفافیت و میرٹ کا قیام۔
    • احتساب کا ایک ایسا خودکار نظام جو “فسطائیت کی باقیات” کا خاتمہ کر سکے۔
  • مسترد شدہ عوامل:
    • موروثی سیاست اور خاندانی نام کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی۔
    • سیاسی انتقام، “دھونس کلچر” اور فسطائی طرزِ حکمرانی۔
    • مذہب یا قوم پرستی کے وہ پرانے نعرے جن کا زمینی حقائق اور معیشت سے تعلق نہیں۔
  • ترجیحات:
    • استحقاقیت (Meritocracy): قیادت کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت کو لازمی قرار دینا۔
    • پرفارمنس اور وژن: “Vision 2050” جیسے ٹھوس معاشی منصوبوں کی بنیاد پر حمایت۔
    • ٹیکنوکریٹک اپروچ: معیشت اور گورننس کے لیے ماہرین کی شمولیت۔

  1. یونیورسٹی انتخابات: قومی سیاست کے لیے ایک ‘خاموش سونامی

بنگلہ دیش کی پانچ بڑی جامعات کے حالیہ نتائج نے روایتی سیاسی صف بندیوں کو تلپٹ کر دیا ہے۔ ان نتائج کو 12 فروری کے لیے ایک “سیاسی ریفرنڈم” قرار دیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کا نام کامیاب گروپ/اتحاد سیاسی پیغام
ڈھاکہ یونیورسٹی (DUCSU) اسلامی چھاترا شبیر و انقلابی اتحاد 1971 کے بعد پہلی بار نظریاتی تبدیلی اور 23 نشستوں پر کلین سوئپ۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی شبیر اور انقلابی طلبہ اتحاد روایتی بائیں بازو کے گڑھ میں متبادل اور پروفیشنل قیادت کی قبولیت۔
راجشاہی یونیورسٹی شبیر اور انقلابی طلبہ اتحاد فسطائیت کے خلاف “استقامت” کی جیت اور تنظیمی قوت کا اعتراف۔

تجزیہ: اسلامی چھاترا شبیر کی غیر معمولی جیت کی بنیادی وجہ ان کی “استقامت” (Resilience) ہے۔ نوجوانوں کے نزدیک یہ وہ گروہ ہے جس نے سابقہ دورِ جبر میں سب سے زیادہ مظالم جھیلے لیکن گراؤنڈ نہیں چھوڑا۔ یہ “خاموش ووٹ” کا وہ سونامی ہے جو روایتی میڈیا کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  1. قیادت کا تقابلی جائزہ: طارق رحمٰن بمقابلہ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن

مستقبل کی قیادت کے لیے دو نمایاں چہروں کا موازنہ نوجوانوں کے بدلتے ہوئے معیارِ انتخاب کو واضح کرتا ہے:

خصوصیت طارق رحمٰن (Chairman BNP) ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (Amir Jamaat-e-Islami)
تعلیمی و پروفیشنل پس منظر ڈھاکہ یونیورسٹی (نا مکمل)، لندن سے حال ہی میں قانون کی ڈگری۔ ایم بی بی ایس (MBBS)؛ سلہٹ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل پروفیشنل ڈاکٹر۔
سیاسی بنیاد موروثی (سابق صدر ضیاء الرحمٰن اور خالدہ ضیاء کے فرزند)۔ نظریاتی جدوجہد؛ طالب علمی کے دور سے عملی سیاست کا آغاز۔
مستقبل کا وژن اور منشور 31 نکاتی اصلاحات؛ بنگلہ دیش کو ایمیزون جیسا ای کامرس ہب بنانا۔ Vision 2050؛ “ہنرمند نوجوان” پروگرام اور میرٹ پر مبنی فلاحی ریاست۔
نوجوانوں میں مقبولیت ایک روایتی “بڑے لیڈر” کے طور پر پہچان۔ “دادو” (Dadu) کے لقب سے مشہور؛ نوجوانوں سے قربت اور نرم خوئی۔
ماضی کے داغ / چیلنجز “ہوا بھون” (Hawa Bhaban) کی سیاست اور کرپشن کے الزامات کا سایہ۔ 15 ماہ کی قید اور دہشت گردی کے الزامات (جو 2025 میں ختم کر دیے گئے)۔

سٹریٹجک تجزیہ: طارق رحمٰن کا “تنہا اکثریت” حاصل کرنے کا دعویٰ اور اتحادی حکومت سے انکار ان کے سیاسی تکبر (Arrogance) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا “براہِ راست ٹی وی مناظرے” کا چیلنج نوجوانوں کی “شفافیت اور مکالمے” کی خواہش کو اپیل کر رہا ہے۔ موروثیت بمقابلہ استحقاقیت کی اس جنگ میں ڈاکٹر شفیق کا پروفیشنل بیک گراؤنڈ ایک بڑا اثاثہ بن کر ابھرا ہے۔

  1. نئے سیاسی اتحاد اور ‘تھرڈ فورس’ کا ابھار

نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور جماعتِ اسلامی کا انتخابی اشتراک بی این پی (BNP) کی سیاسی اجارہ داری کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

  • اندرونی خلفشار: اس اتحاد کے نتیجے میں این سی پی (NCP) کے اندر موجود لبرل اور سیکولر سوچ رکھنے والے کئی رہنماؤں نے استعفے دیے ہیں، جس سے “اسلامسٹ-سٹوڈنٹ الائنس” کے نظریاتی تناؤ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم، قیادت اسے فسطائیت کے خلاف ایک “ضروری اشتراک” قرار دیتی ہے۔
  • ٹیکٹیکل ووٹنگ: نوجوان ووٹرز اب جذباتی ہونے کے بجائے “سٹریٹجک” ہو چکے ہیں۔ وہ ووٹ تقسیم کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر اس امیدوار کو ووٹ دے رہے ہیں جس کا تعلیمی اور پروفیشنل پروفائل مضبوط ہو، تاکہ موروثی سیاست کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ “افادی ووٹنگ” بی این پی کے کئی بڑے برج الٹ سکتی ہے۔
  1. بین الاقوامی ردعمل اور جیو پولیٹیکل اثرات

بنگلہ دیش کی بدلتی صورتحال نے عالمی طاقتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اور “حکمتِ عملی کے تعطل” (Policy Paralysis) سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے:

  • بھارت: نئی دہلی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس کی تمام سرمایہ کاری عوامی لیگ پر تھی۔ اب بھارت “حکمتِ عملی کے گھیراؤ” (Strategic Encirclement) سے بچنے کے لیے نئے انقلابی بلاک کے ساتھ “بیک ڈور چینلز” (Backdoor Channels) سے رابطے تلاش کر رہا ہے۔
  • چین: چین کی دلچسپی معاشی استحکام اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں ہے۔ وہ نئے اتحاد کے “معاشی خود مختاری” کے بیانیے کو اپنی سرمایہ کاری کے لیے ایک سازگار موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
  • امریکہ و مغربی ممالک: یہ ممالک اسے ایک “اعتدال پسند جمہوری متبادل” کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک کامیاب تجربہ ہے جہاں نوجوانوں نے ایک فسطائی نظام کو ووٹ کے ذریعے چیلنج کیا ہے۔ لیکن اسلامی جماعت کے  انتخابات جیتنے کو  ایک امر لازم کے طور پر مغرب جمہور کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا رہا۔سیاسی تاریخ اور بین الاقوامی سیاسی سفر اور عمرانی شعوری سطح پر ایک گہری غار کے طور یہ سو سالہ ریکارڈ  موجود ہے جو مؤرخ لکھ چکا۔یہ ایک حیرتناک باب ہے۔اور مغرب کے جمہوریت پر یقین کے حوالے سے بلند آہنگ سوال۔ اس  دورنگی میں کتنی تبدیلی آتی ہے یہ وقت بتائے گا۔البتہ اس دوہرے معیار پر سوال بلند ہونے شروع ہوچکے ہیں۔
  • پاکستان و مسلم دنیا: یہاں اس تبدیلی کو ایک “جدید اسلامی جمہوری ماڈل” کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں انتہا پسندی کے بجائے استحقاقیت اور قابلیت کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
  1. حتمی تجزیہ: موروثیت کا خاتمہ اور قابلیت کی بنیاد پر جمہوریت

12 فروری کے انتخابات محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ “ادارہ جاتی بوسیدگی” (Institutional Decay) کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہیں۔ نوجوانوں کا انقلابی موڈ یہ واضح کر رہا ہے کہ اب ملک وہ چلائے گا جو “اہل” ہوگا۔

کلیدی نتائج (Key Takeaways):

  1. خاموش ووٹ کا فیصلہ کن کردار: یونیورسٹی انتخابات کے رجحانات ثابت کرتے ہیں کہ ایک بڑا خاموش ووٹ بینک روایتی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے “اصلاحاتی بلاک” کو کامیاب کرا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ مذہبی جماعت ، جماعت اسلامی پر تنگ نظری کے ماضی کے الزام کو نوجوانون کی پرکھ اور تجربہ ایک مختلف نتیجے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ وہ اسے سخت گیر اور الزامات کے برعکس دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا براہ راست تجربہ ہے۔
    ماضی کے مہماتی اور یک طرفہ افسانوی  الزامات کے برعکس کردار اور روئیے ان کے سامنے ہیں۔ لہذا ان کا فیصلہ بہت لاؤڈ اور صاف سامنے آیا ہے۔
  2. موروثیت بمقابلہ ٹیکنو کریٹک قیادت: بنگلہ دیشی سیاست میں خاندان پرستی کا دور ختم ہو رہا ہے اور “پروفیشنلزم” ایک نئی سیاسی کرنسی بن کر ابھری ہے۔
  3. ادارہ سازی اور احتساب کا مطالبہ: نوجوان اب محض نعروں پر نہیں بلکہ “چارٹر آف ریفارمز” پر ووٹ دے رہے ہیں، جس کا مقصد عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہے۔

    مضمون نگارکا تعارف:
    ڈاکٹر ظفر اقبال ہیلتھ کیئر مینجمنٹ، کوالٹی اور مریض کی حفاظت کے شعبے میں تربیت اور عملی خدمات سے وابستہ ہیں۔ وہ اقدار کی بنیاد پر میڈیکل پریکٹس کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ صحت عامہ کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ، بین الاقوامی تعلقات، ماحولیات، اقبالیات، سیاسی، ادبی اور قومی امور بھی ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔
    لنکڈ اِن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: https://www.linkedin.com/in/dr-zafar-iqbal-1b02b48/