غزہ میں آٹھ ہزار انڈونیشین فوجی بھجوانے کی تیاری

February 11, 2026 · اہم خبریں, قومی

انڈونیشیا غزہ میں فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں تقریباً آٹھ ہزار فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہے۔ یہ اقدام گذشتہ سال امریکی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد انڈونیشیا کو غزہ میں فوج بھیجنے والا پہلا ملک بنا سکتا ہے۔

انڈونیشیا کی فوج کے سربراہ جنرل مارولی سیمانجنتک کے مطابق فوجیوں کی تربیت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور وہ غزہ میں طبی اور انجینئرنگ کے شعبوں پر توجہ دیں گے۔ انڈونیشیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ امن بورڈ کا حصہ بھی ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی استحکام فورس بنانے کا اختیار دے چکی ہے۔ یہ فورس غزہ کے سرحدی علاقوں کی حفاظت کرے گی، حماس کو غیر مسلح کرنے میں مدد دے گی اور علاقے کو غیر فوجی بنانے کی کوشش کرے گی۔

تاہم تعیناتی میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے اور اسرائیل ابھی تک غزہ کے کچھ حصوں پر قابض ہے، جس کی وجہ سے حقیقی امن قائم نہیں ہوا۔ امن بورڈ غزہ میں نئی ٹیکنوکریٹس پر مبنی فلسطینی حکومت اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی نگرانی بھی کرے گا۔

غزہ میں فوجی تعیناتی کے لیے رفح اور خان یونس کے درمیان ایک علاقہ پہلے ہی مختص کیا جا چکا ہے، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان دونوں فریقین کی رضامندی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا قابل قبول طریقہ، سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسرائیل کی حکومت چاہتی ہے کہ غزہ میں ایک غیرجانبدار فلسطینی ادارہ حکومت کرے تاکہ حماس یا فلسطینی اتھارٹی کا دوبارہ اثر و رسوخ قائم نہ ہو۔ انڈونیشیا کی فوجی شمولیت کا مقصد غزہ میں استحکام قائم کرنا اور دو ریاستی حل کے ذریعے تنازع کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔

یہ منصوبہ امریکی ثالثی، اسرائیل کی سکیورٹی خدشات اور حماس کی ہتھیار ڈالنے کی تیاری پر منحصر ہے، جبکہ غزہ کی موجودہ تقسیم اور بے گھر آبادی بھی اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔