بنگلہ دیش الیکشن میں بی این پی کی دو تہائی اکثریت۔جماعت اسلامی دوسری بڑی جماعت

February 12, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

بنگلہ دیش کے انتخابات میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ  پارٹی نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی جس نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اگرچہ ایک بیان میں جماعت اسلامی کی طرف سے نتائج پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیاتھا۔

 

حال ہی میں انتقال کرنے والی خالد ضیا کے بیٹے طارق رحمان ممکنہ طور پر بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو مبارک باد دی ہے۔

 

بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے ترجمان اور انتخابی سیل نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سادہ اکثریت حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ رات تک پارٹی کا کہنا تھا کہ اسے 299 میں سے 160 نشستیں حاصل ہو چکی ہیں جو   حکومت سازی کے لیے مطلوبہ سادہ اکثریت (151 نشستیں) سے بھی زائد ہے۔ بی این پی کے حامیوں نے مختلف شہروں میں جشن منانا شروع کر دیا ۔ تاہم صبح بی این پی کی نشستوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔بی این پی  نے 206 نشستیں حاصل کی ہیں اور اتحادیوں کی نشستیں ملا کر اس کے پاس 209 سیٹیں موجودہ ہیں۔

جماعت اسلامی نے 67 نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کی نشستوں کی  تعداد 76 ہوگئی ہے۔طلبہ کی سیاسی جماعت  این سی پی 6 نشستیں لے سکی ہے  اور یہ جماعت اسلامی کی زیر قیادت اتحاد میں شامل ہوگئی ہے۔ اس کے رہنما ناہد السلام بھی الیکشن جیت گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے اتحاد میں دیگر تین نشستیںبنگلہ دیش خلافت مجلس (۲) اور خلافت مجلس(۱) کی ہیں۔

 جماعتِ اسلامی، جو گزشتہ کئی برسوں سے شدید سیاسی دباؤ اور پابندیوں کا شکار تھی، ان انتخابات میں ایک اہم سیاسی طاقت بن کر ابھری ہے۔

بی این پی کے اتحاد میں  گنوسنگھتی آندولن (عوامی یکجہتی تحریک)(1)بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی-بی جے پی()1گنوا دھیکار پریشد(1) شامل ہیں۔

چھ امیداوار آزاد ہیں جب کہ اسلامی تحریک بنگلہ دیش نے بھی تاحال کسی اتحاد میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

اتحاد (Alliance) شامل جماعتیں (Parties) نشستیں (Seats) مجموعی نشستیں
بی این پی اور اتحادی بی این پی (بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی) 206 209
گنوسنگھتی آندولن 1
بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی (BJP-پارتھو) 1
گنوا دھیکار پریشد (GOP) 1
جمیعت علمائے اسلام 0
انقلابی ورکرز پارٹی 0
جماعت اسلامی اور اتحادی بنگلہ دیش جماعت اسلامی 67 76
نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) 6
بنگلہ دیش خلافت مجلس 2
خلافت مجلس 1
اے بی پارٹی (AB Party) 0
ایل ڈی پی (LDP) 0
دیگر چھوٹی جماعتیں 0
آزاد اور دیگر آزاد امیدوار (Independent) 7 7
اسلامی تحریک اسلامی تحریک بنگلہ دیش 1 1
جاتیہ پارٹی جاتیہ پارٹی (ارشاد/قادر) 0 0
مجموعی نشستیں 299/300

بی این پی کی سب سے بڑی حریف پارٹی جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ ’مخالفت کی سیاست‘ کے بجائے ’مثبت سیاست کے تحت‘ آگے بڑھے گی۔

بنگلا دیشی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے اور حتمی سرکاری نتائج کا اعلان تمام حلقوں سے ڈیٹا موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق، ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں نمایاں رہا ہے۔

 یہ انتخابات شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد ملک کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل قرار دیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا اعلان تمام حلقوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

قبل ازیں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ طویل اقتدار کے خاتمے اور گزشتہ برس آنے والے ‘مون سون انقلاب’ کے بعد آج ملک کے پہلے 13ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔

صبح ساڑھے سات بجے شروع ہونے والی پولنگ شام ساڑھے چار بجے (پاکستانی وقت سہ پہر ساڑھے تین بجے) اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد اب ملک بھر کے 42 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کےامیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے جبکہ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لےرہے۔

انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے فوج بھی تعینات ہے، ملک بھر میں کل 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، شہری آئیں اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالیں۔

پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئی، پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، پارلیمنٹ میں 50نشستیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔

ان انتخابات کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ شہریوں نے پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ایک قومی ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ ووٹرز سے ‘جولائی نیشنل چارٹر’ کے متعلق رائے مانگی گئی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی آمرانہ نظام کا راستہ روکنا ہے۔

ریفرنڈم کے اہم نکات میں شامل ہیں،جن میں وزیر اعظم کی مدتِ ملازمت کو زیادہ سے زیادہ 10 سال (دو بار) تک محدود کرنا،آئین میں ترامیم کے لیے ایوانِ بالا (Upper House) کی منظوری لازمی قرار دینا اورانتخابات کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کے نظام کی مستقل بحالی شامل ہیں۔

عوامی لیگ پر پابندی کے باعث اس بار مقابلہ روایتی حریفوں کے بجائے نئے اتحادوں کے درمیان ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP): طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسے ‘خوف سے آزادی کا دن’ قرار دیا۔

جماعتِ اسلامی و اتحادی: جماعتِ اسلامی نے نوجوانوں کی ‘نیشنل سٹیزن پارٹی’ کے ساتھ مل کر ایک طاقتور 11 رکنی اتحاد تشکیل دیا ہے، جو کئی حلقوں میں بی این پی کو سخت ٹکر دے رہا ہے۔

 سیکیورٹی کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی تعیناتی کی گئی، جس میں فوج، پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے 9 لاکھ 50 ہزار سے زائد اہلکار شامل تھے۔ پہلی بار ڈرونز اور باڈی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی، لیکن منشی گنج، کومیلا اور بھولا کے علاقوں میں دھماکوں اور تصادم کے اکا دکا واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ شیر پور میں بیلٹ بکس چھیننے کی کوشش پر پولنگ کچھ دیر کے لیے معطل رہی۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ “ہم نے ڈراؤنے خواب کا خاتمہ کر کے ایک نئے خواب کی بنیاد رکھ دی ہے”۔ غیر سرکاری ابتدائی نتائج رات گئے تک موصول ہونا شروع ہو جائیں گے، جبکہ مکمل نتائج کا اعلان کل متوقع ہے۔