اسرائیل نے جیتے جاگتے فلسطینیوں کوراکھ اوربخارات میں کیسےتبدیل کیا؟

February 11, 2026 · امت خاص

 

اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہلاکت خیز ممنوعہ اسرائیلی ہتھیاروںسے شہید فلسطینیوں کے جسم بخارات میں تبدیل ہوگئے۔ان کی تعداد 3ہزار تک بتائی جارہی ہے۔ عالمی خبررساں ادارے ’’ الجزیرہ ‘‘ کے مطابق ،اسرائیلی فوج نے منظم طورپر ویکیوم یا ایروسول بموں کا استعمال کیا جو 3500 ڈگری سیلسیئس یا 6332 ڈگری فارن ہائٹ تک درجہ حرارت پیداکرتے ہیں۔ان کے مخصوص کیمیائی مرکبات سیکنڈوں میں انسانی جسموں کو راکھ بنادیتے ہیں۔

غزہ سول ڈیفینس کے فرانزک اعدادوشمارسے پتاچلاہے کہ 2ہزار842 فلسطینیوں کو ان بموں سے ہوامیں تحلیل کردیاگیاتھا۔

شہری دفاع نے بتایاکہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی عمارتوں کے اندرونی جائزے میں سائنسی طریقہ کاراختیارکیا جاتاہے ۔ ٹیمیں متاثرہ گھرمیں داخل ہوتی ہیں اور اور وہاں پائی جانے والی لاشوں کے علاوہ ، مکینوں کی اصل تعداد معلوم کیا جاتاہے۔ اگرکوئی ہمیں بتاتاہے کہ اندر 5 افراد تھے اور ہم صرف 3 لاشیں برآمد کرتے ہیں ، اور پوری چھان بین کے بعد صرف دیواروں پر خون کے چھینٹے یا انسانی جسم کے کچھ ذرات اور ٹکڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا توباقی 2 کو بخارات میں تبدیل شدہ مانتے ہیں۔

فوجی ماہرین کے مطابق تھرمل اور تھرموبارک ہتھیار صرف انسان کوہلاک نہیں کرتے بلکہ وہ نشان بھی مٹادیتے ہیں، روایتی دھماکہ خیز مواد کے برعکس،جلنے کے وقت کو طول دینے کے لیے، کیمیکل مکسچر میں ایلومینیم، میگنیشیم اور ٹائٹینیم کے پاؤڈر ڈالے جاتے ہیں،اس سے دھماکے کا درجہ حرارت 2500سے3000ڈگری سیلسیس [F4532سے5432F] تک بڑھ جاتا ہے۔شدید گرمی اکثر ٹرائٹونل سے پیدا ہوتی ہے، TNT اور ایلومینیم پاؤڈر کا مرکب جو MK-84 جیسے امریکی بموں میں استعمال ہوتا ہے۔

غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے انسانی جسم پر ایسی شدید گرمی کے حیاتیاتی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایاکہ پانی کا ابلتا نقطہ 100 ڈگری سیلسیس [212F] ہے،جب کسی جسم کو بڑے پیمانے پر دباؤ اور آکسیڈیشن کے ساتھ مل کر3000ڈگری سے زیادہ توانائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو، سیال فوری طور پر ابلتے ہیں۔ ٹشوز بخارات بن کر راکھ میں بدل جاتے ہیں۔ یہ کیمیائی طور پر ناگزیر ہے۔

تحقیقات سے پتاچلاہے کہ غزہ میں انسانی جسموںکو راکھ بنادینے والے ہتھیارامریکی ساختہ تھے۔ان میں ایم کے 84، بی ایل یو 109 اور جی بی یو 39 قابل ذکرہیں۔

BLU-109بندجگہوں میں ایک بڑا آتشیں گول پیداکرتا ہے، جو مخصوص دائرے کے اندر موجود ہر چیز کو جلا دیتا ہے۔ ستمبر 2024 میں اسرائیل نے بے گھرفلسطینیوں کے لیے محفوظ زون المواسی میں اس بم سے 22 افراد کو بخارات بنااکراڑا دیاتھا۔

GBU-39کو عمارتی ھانچہ نسبتاً برقرار رکھتے ہوئے اندر کی ہر چیز کو تباہ کردینے کے لیے ڈیزائن کیا گیاہے۔یہ ایک دباؤ کی لہر کے ذریعے حملہ کرتاہے جس کے باعث پھیپھڑے پھٹ جاتے ہیں اور ایک تھرمل لہر جسم کے اندرداخل ہوکر نرم بافتوں کو جلا دیتی ہے۔غزہ سول ڈیفنس نے ان جگہوں پر GBU-39 کے ٹکڑے ملنے کی تصدیق کی جہاں سے لاشیں غائب ہو گئی تھیں۔

قانونی ماہرین کا کہناہے کہ ان ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال نہ صرف اسرائیل بلکہ اس کے مغربی سپلائرزتک بھی پھیلا ہواہے۔

قطر کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی لیکچرر ڈیانا بوتو کے مطابق یہ صرف اسرائیلی نہیں بلکہ ایک عالمی نسل کشی ہے۔دوحہ میں الجزیرہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے دلیل دی کہ سپلائی چین اس ملی بھگت کا ثبوت ہے،ہم امریکہ اور یورپ سے ان ہتھیاروں کا مسلسل بہاؤ دیکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار لڑاکا اور بچے میں فرق نہیں کرتے، پھر بھی وہ انہیں بھیجتے رہتے ہیں۔