محبت کی جیت : نورفاطمہ(سربجیت کور) شوہر کے گھر پہنچ گئیں
لاہور/شیخوپورہ: بھارتی خاتون سربجیت کور کو دارالامان لاہور سے رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ جمعرات کی صبح شیخوپورہ میں اپنے شوہر کے گھر پہنچ گئیں۔
سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) کے حکام نے انہیں گھر جانے کی باضابطہ اجازت دے دی تھی۔ اس اجازت نامے کے بعد انہیں گزشتہ بدھ کی رات ویمن شیلٹر ہوم (دارالامان) سے ریلیز کیا گیا۔
متروکہ وقف املاک کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سربجیت کور کو سیاسی بنیادوں پر ڈی پورٹ (ملک بدر) نہیں کیا جا سکتا۔ اسی قانونی و سفارتی فیصلے کی روشنی میں انہیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔
جمعرات کی شام اپنے شوہر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربجیت کور نے مزید کہا کہ ’میں اب سکون محسوس کر رہی ہوں اور مجھے خوشی ہے میں مذہب اسلام میں آئی ہوں اور سوہنے نبی کا کلمہ پڑھا ہے۔‘
اپنے مستقبل کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’میں باقی کی زندگی ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہوں، اور جو کلمے مجھے نہیں آتے وہ میں سیکھوں گی۔‘
سربجیت کور (نور فاطمہ) کے پاکستانی شوہر ناصر حسین نے بھی میڈیا سے مختصر بات چیت کی اور کہا کہ وہ سربجیت کور (نور فاطمہ) سے شادی کرکے بہت خوش ہیں۔ ناصر حسین نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انھیں کوئی شکوہ نہیں۔
انڈیا سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) نے کہا ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی پاکستان میں ہی ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہیں اور وہ پاکستان آنے کے اپنے فیصلے پر خوش ہیں۔
وسطی پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں اپنے وکیل احمد حسن پاشا کے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربجیت کور (نور فاطمہ) کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اور ناصر سچا پیار کرتے ہیں، اگر آپ سچا پیار کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آپ ملیں گے۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں پیار کرتے ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے اور یہ یقین تھا کہ ہم دونوں کبھی نہ کبھی تو ضرور ملیں گے۔ اگر میرے منہ میں دانت نہ بھی رہتے (یعنی میں بوڑھی ہو جاتی) تو پھر بھی میں نے یہاں (پاکستان) ضرور آنا تھا۔اس موقع پر سربجیت کور (نور فاطمہ) نے ہاتھوں پر مہندی بھی لگا رکھی تھی۔
یاد رہے کہ سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہیں گئیں اور انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی تھی۔
سربجیت کور کو رواں برس کے آغاز پر (چار جنوری) ضلع ننکانہ صاحب کے علاقے سے حراست میں لے کر لاہور کے ویمن شیلٹر ہوم بھجوا دیا گیا تھا اور انھیں واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں تاہم آخری لمحات میں انھوں نے انڈیا واپس جانے سے انکار کر دیا تھا جس پر ان کو واپس بھیجنے کا عمل وقتی طور پر روک دیا گیا تھا۔
ان کی جانب سے حکومت پاکستان کو واپس انڈیا نہ بھیجنے کی درخواست بھی کی گئی جس پر پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے سربجیت کور کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے اور ’کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔‘
وزیرِ مملکت نے سربجیت کور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست کا حوالہ بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ ’عدالت نے بھی کہا تھا اور اس پر وزارتِ خارجہ کی معاونت بھی شامل ہے۔ اب وزارتِ داخلہ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔‘